ایجنٹ
تحریر ڈاکٹر نذیر گیلانی
چئیر مین جموں کشمیر کونسل آف ہیومین رائٹس۔
ریاست جموں کشمیر کے شہری بھی کیا عجیب مخلوق ہیں، کہ اقوام عالم اور پاکستان اور بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں،کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کیا جاۓ،
مگر اپنے مخالف کو انڈیا یا پاکستان کا ایجنٹ کہتے شرماتے نہيں۔ بلکہ ایک دوسرے کو ایجنٹ کہنے کا معاوضہ بھی لیتے ہیں۔
الحاق پاکستان کا مطلب کشمیریوں کا پاکستان پر اظہار اطمینان ہے۔ یعنی الحاق پاکستان تابع منظوری کشمیری ہے۔
اسی طرحالحاق ہندوستان کا مطلب کشمیریوں کا ہندوستان پر اظہاراطمینان ہے۔ یعنی الحاق ہندوستان تابع منظوری کشمیری ہے
خود مختار يا آذاد ریاست بھی تابع منظوری کشیری ووٹ ہے۔پھراس بھاری بھرکم اختیار کا یہ کشمیری کیسے ایجنٹ ہوا؟ کیا کشمیری اپنی شکست وریخت کا خود ذمہدار ہے؟
اگر آپ نے کسی دوسرے کو ایجنٹ کہا ہے یا اس خدمت میں مصروف ہیں، اس پر نادم ہوں اور اپنی تصحیح کریں۔
برطانوی پالیمنٹ میں، فرینڈز آف انڈیا، فرینڈز آف پاکستان، آل پارٹی پارلیمنٹری کمیٹی براۓ کشمیر، اور کشمیری پنڈتوں اور دوسری اقوام کی حمائیت کے لۓ کمیٹیاں کام کرتی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کو کسی کا ایجنٹ نہیں کہتے۔ بحث اور استدلال سے کام لیتے ہیں۔
کسی قوم کو مصروف، محتاج اور غلام رکھنے کا يہ آسان طریقہ ہے۔ اور کشمیری قوم اس غیرمعتبر کام میں کامیاب ہونے کے لۓ روز "اوراد فتح"کا وظيفہ کرتی ہے۔
یہ غیر معتبریت وادی میں ذیادہ اور جموں میں کم ہے۔
COMMENT
یہی وجہ ہے کہ کشمیری پر 5 حکومتیں اور 5 آئين سوار ہیں۔