سلامتی کونسل کا اجلاس اور ہماری تیاری۔۔۔
تحریر۔ توقیر لون
سلامتی کونسل میں چین کے مندوب کی طرف سے جو بیان دیا گیا ھے اسمیں انھوں نے کشمیر میں ھندوستان کے اقدامات کی مزمت کرتے ھوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر سے جڑی ھوئ کوئ بھی متعلقہ پارٹی یک طرفہ طور پر کشمیر سے متعلق کوئ فیصلہ کرنے سے گریز کریں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ھندوستان نے چین کی خودمختاری کو بھی چیلنج کیا ہے۔
میرے خیال میں چینی مندوب کے اس بیان کا مقصد شاید یہ ھو کہ چونکہ چین بھی اس مسئلے کا فریق ھے۔ انڈیا کا آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانےاور کشمیر پر مکمل قبضہ کرنے سے چین کی خودمختاری کو بھی چیلنج کیا گیا ھے اور کسی بھی جنگ کی صورت میں چین بھی شامل ھو سکتا ھے۔۔۔
ملیحہ لودھی نے جو انڈیا کے خلاف بیان دیا وہ ناکافی تھا۔۔ ملیحہ لودھی کو چاہئے تھا کہ وہ پریس کانفرنس جو ایک نادر موقع تھا انڈیا کی جمھوریت کو بے نقاب کرنے کا۔۔۔ انڈیا کی فاشسٹ حکومت کی سربراہی میں اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کا جو قتل ھو رہا ھے اسے بے نقاب کرنے کا اور پھر اسی بات کو کشمیر سے لنک کرنا چاہئے تھا جہاں پلیٹ گنز سے ایک پوری نسل کو اندھا کیا جا رھا ھے، جہاں مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ھے۔۔ جہاں عزتیں لوٹی جا رہی ہیں۔ اور جس پر ھیومن رائٹس کی رپورٹ بھی ثابت کر رہی ھے کہ انڈیا جو ایک ایک فاشسٹ حکومت ہے ہیومن رائٹس کی بد ترین خلاف ورزی کر رہا ھے۔
اس بات پر توجہ دینے کی بجائے وہ شاہ محمود قریشی کی کاوشوں سے سلامتی کونسل کے اجلاس پر دنیا کے صحافیوں کو مطلع کر رہی تھیں۔۔۔ ملیحہ لودھی صاحبہ کی تیاری اس سطح پر نہیں تھی کہ جتنی ھونی چاہئے تھی۔۔ پھر جب لوگ انسے سوال کرتے ہیں تو یہ برا مان جاتی ہیں۔
اسکے برعکس انڈین مندوب نے نہایت چالاکی سے اپنا موقف پیش کیا اور سوالوں کے جوابات بھی دیے۔۔ اندین مندوب نے ھیومین رائٹس وائلیشن کے سوالات کو گول مول کر دیا۔ اور الٹا پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے رہے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کی جا رہی ھے۔۔۔ دوسری طرف ہمارے صحافیوں کی طرف سے سوالات کوی اتنے جاندار
بھی نہیں تھے کہ ھندوستانی مندوب کو ھیومین رائٹس
وائلیشن ہر اسے آڑے ھاتھوں لیتے۔۔
بھی نہیں تھے کہ ھندوستانی مندوب کو ھیومین رائٹس
وائلیشن ہر اسے آڑے ھاتھوں لیتے۔۔

No comments:
Post a Comment