Thursday, 22 August 2019

محصورین کی عید


محصورین کی عید


کیا عید منائی لوگوں نے
جہاں گھر بازار مقفل ہیں
جہاں شہر ھوئے ویرانے کی نظر
جہاں مسجد ممبر سب بند ہیں
بس غاصب فوج کا پہرا ھے
ھے حکم کوئ نہ نکلے باھر 
ھر بیمار یہ اب سوچتا ھے 
کیسے  دوا پہنچے گی انہیں
جہاں ھر دکاں مقفل ھے
ھر سو کرفیو کا ڈیرا ھے
بچوں کی بلکتی آوازیں 
جو دیکھنے سے اب قاصر ہیں
کیا ماں انہیں اب یہ سمجھائے
کیوں صبح کا رنگ اب کالا ھے
دہلی سے چلی اک لڑکی اب
 رخت سفر یوں باندھتی ھے
 توڑ کے پہرے اب، سب وہ
دل ہی دل میں یہ ٹھانتی ھے
شوگر کے مرض میں والد کو 
اک انسولین پہنچانے پر
کیا گزری اس پہ، وہ جانتی ھے
کشمیر تیر ی قسمت ہے  ایسی 
تجھے اپنوں، غیروں نے گھیرا 
ترے نام پہ جاں جو وار گئے
انکی بیواؤں، یتیموں کا
ان بے وارث ضعیفوں کا
ظلم کی کالی راتوں میں ج
جب ٹپ ٹپ آنسو گرتاہے ں
ان معصوموں کے نام پہ جب
کچھ کھیل تماشے والے لوگ
 ترے نام کی ڈگڈگی باندھتے ہیں 
یوں انکا چولہا جلتا ھے
توقیر لون
                                                              .
                            

Saturday, 17 August 2019

سلامتی کونسل کااجلاس اور ہماری تیاری



سلامتی کونسل کا اجلاس اور ہماری تیاری۔۔۔

تحریر۔ توقیر لون
سلامتی کونسل میں چین کے مندوب کی طرف سے جو بیان دیا گیا ھے اسمیں انھوں نے  کشمیر میں ھندوستان کے اقدامات کی مزمت کرتے ھوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر سے جڑی ھوئ کوئ بھی متعلقہ پارٹی  یک طرفہ طور پر کشمیر سے متعلق کوئ فیصلہ کرنے سے گریز کریں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ھندوستان نے چین کی خودمختاری کو بھی چیلنج کیا ہے۔
 میرے خیال میں چینی مندوب کے اس بیان کا مقصد شاید یہ ھو کہ چونکہ چین بھی اس مسئلے کا فریق ھے۔ انڈیا کا آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانےاور کشمیر پر مکمل قبضہ کرنے  سے چین کی خودمختاری کو بھی چیلنج کیا گیا ھے اور کسی بھی جنگ کی صورت میں چین بھی شامل ھو سکتا ھے۔۔۔    

ملیحہ لودھی نے جو انڈیا کے خلاف بیان دیا وہ ناکافی تھا۔۔ ملیحہ لودھی کو چاہئے تھا کہ وہ پریس کانفرنس جو ایک نادر موقع تھا انڈیا کی جمھوریت کو بے نقاب کرنے کا۔۔۔ انڈیا کی فاشسٹ حکومت کی سربراہی میں اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کا جو قتل ھو رہا ھے اسے بے نقاب کرنے کا اور پھر اسی بات کو کشمیر سے لنک کرنا چاہئے تھا جہاں پلیٹ گنز سے ایک پوری نسل کو  اندھا کیا جا رھا ھے، جہاں مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ھے۔۔ جہاں عزتیں لوٹی جا رہی ہیں۔ اور جس پر ھیومن رائٹس کی رپورٹ بھی ثابت کر رہی ھے کہ انڈیا جو ایک ایک فاشسٹ حکومت ہے ہیومن رائٹس کی بد ترین خلاف ورزی کر رہا ھے۔  
اس بات پر توجہ دینے کی بجائے وہ شاہ محمود قریشی کی کاوشوں سے سلامتی کونسل کے اجلاس پر دنیا کے صحافیوں کو مطلع کر رہی تھیں۔۔۔ ملیحہ لودھی صاحبہ کی تیاری اس سطح پر نہیں تھی کہ جتنی ھونی چاہئے تھی۔۔ پھر جب لوگ انسے سوال کرتے ہیں تو یہ برا مان جاتی ہیں۔ 

اسکے برعکس انڈین مندوب نے نہایت چالاکی سے اپنا موقف پیش کیا اور سوالوں کے جوابات بھی دیے۔۔ اندین مندوب نے ھیومین رائٹس وائلیشن کے سوالات کو گول مول کر دیا۔ اور الٹا پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے رہے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کی جا رہی ھے۔۔۔  دوسری طرف ہمارے صحافیوں کی طرف سے سوالات کوی اتنے جاندار
 بھی نہیں تھے کہ ھندوستانی مندوب کو ھیومین رائٹس
وائلیشن ہر اسے آڑے ھاتھوں لیتے۔۔ 

Tuesday, 6 August 2019

ثالثی کا پروانہ

ثالثی کا پروانہ

کسی جنگل میں گیدڑوں کا ایک ٹولہ رہتا تھا سارے گیدڑ
 دن رات پیٹ بھرنے کے چکر میں پورے جنگل کی خاک  چھانتے رہتے اور اپنے شکم کی آگ بجھاتے لیکن ان میں سے ایک گیدڑ ہمیشہ غائب ھو جاتا اور شام کو واپس آ کر بڑے اطمینان سے لیٹا رہتا، اور باقی گیدڑوں کو لور لور پھرنے کے طعنے دیتا رہتا۔۔ باقی گیدڑ اسکی اس بات پر پریشان تھے کہ آخر یہ غائب کہاں ھو جاتا ہے؟۔ شکار پر بھی ہمارے ساتھ نہیں جاتا لیکن پھر بھی ہٹا کٹااورخوش باش ہے  اسے کسی بات کی پرواہ تک نہیں۔ آخر ایک دن  اس راز سے متعلق اسکے دوست پوچھ ہی لیتے ہیں تو وہ انکو بتاتا ھے کہ نزدیکی گاؤں کے  چودھری صاحب سے اسکے بڑے اچھے مراسم ہیں  اس گاؤں میں جتنے بھی خربوزوں کے کھیت ہیں وہ ان سب میں سےخربوزے کھا سکتا ھے۔ دوست گیدڑ حیران ھو کر اس سے کہتے ہیں کہ کوئ تمہیں منع نہیں کرتا،  گیدڑ انہیں بتاتا ھے چودھری صاحب کی طرف سے اسکے پاس ایک پروانہ ھے جسے دکھانے پر کوئ بھی اسے روک نہیں سکتا۔

باقی تمام گیدڑ اپنے اس ساتھی کی قدر ومنزلت پر فخر کرتے ہیں اور اسے ایک نہایت ہی دانا اور عقلمند گردان کر اسے اپنا لیڈر مانتے ہوئے اسکی او بھگت کرنا شروع ھو جاتے ہیں۔ ایک دن اپنے دوستوں کے اصرار پر وہ انھیں بھی اپنے ساتھ خربوزے  کھلانے کے لیے لےجانے پر رضامند ھو جاتا ھے۔  سارے گیدڑ کھیت میں خربوزے کھانے میں محو ھوتے ہیں کہ  ادھر سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنا شروع ھو جاتی ہی  جو ان ہی کی طرف آ رہے ھوتے ہیں۔ موصوف  گیدڑ صاحب آؤ دیکھتے ہیں نہ تاؤ اور سرپٹ بھاگنے لگتے ہیں، کتوں کو دیکھ کر باقی گیدڑ بھی اس گیدڑ کے پیچھے پیچھے بھاگنا شروع جاتے ہیں۔ان میں سے ایک گیدڑ اپنے لیڈر گیدڑ سے کہتا ھے کہ جناب کدھر ھے وہ پروانہ ، جلدی نکالو اور انکو دکھاؤ تو سہی وگرنہ یہ تو آج ہماری تکہ بوٹی کردیں گے۔۔
لیڈر گیدڑ  آگے آگے دوڑتے ہوئے کہتا ہے کہ یار یہ جو پروانہ ھے نا۔۔۔ یہ دراصل انگریزی میں لکھا ھوا ھے۔۔ اور یہ ٹھہرے ان پڑھ اور جاھل کتے۔۔ انہیں یہ پروانہ کہاں سمجھ میں آئے گا۔۔ فی الوقت بھاگنے میں ہی آفیت سمجھو۔۔ 
نوٹ
کشمیر پر ثالثی کا پروانہ تو ہمارے پاس موجود ہے مگر ھندوستانی سگوں کو یہ سمجھ نہیں آئے گا۔۔۔۔

سال نو اور فیسبک نئے سال میں  چلے تو آئے خوشی سے اب اس سال میں  کیا کیا بدلاؤ ھو گا وہی ہم اور وہی  تم ہی تو ھوں گے وہی...