Wednesday, 1 January 2020


سال نو اور فیسبک

نئے سال میں 
چلے تو آئے خوشی سے
اب اس سال میں 
کیا کیا بدلاؤ ھو گا
وہی ہم اور وہی
 تم ہی تو ھوں گے
وہی یادیں ھونگی 
پرانی شرانی
بدلے گا زمانہ
 نہ بدلیں گے ہم بھی
وہی قسمیں وعدے 
وہی بد گمانی
 نیو ائیرز ریزولوشن
تو۔۔۔ 
لکھا نہیں ابھی تک
کہ لکھ کر بھلانا
ھے عادت پرانی
نئے سال کا آغاز 
کچھ اس طرح سے ھو گا 
کہ فیسبک کی پرانی
دن بدن پرتوں کو
ٹٹول کر ہم بھی 
کاپی کرتے رہیں گے
اور نئے سال کے
 فیسبک پر 
پیسٹ کرتے رہیں گے۔۔ 
                                      توقیر لون۔                                         

Saturday, 7 December 2019

اسلام، جدید سوشلزم اور طلباء نعرے




اسلام جدید سوشلزم اور طلباء کے نعرے


تحریر۔ توقیر لون

کچھ دن پہلے طلباء کی ایک وڈیو وائرل ھوئ جسمیں طلباء
 سوشلزم کے حق میں،  سٹوڈنٹس یونین بحالی اور طبقاتی معاشرے میں استحصال کے خلاف نعرے مارتے دکھائ دئے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی کھل کر اپنی اپنی رائے دی. رائے دینے والوں میں ایک طبقہ ایسا تھا جو طلباء مارچ کے حق میں تھا، دوسرا اس سے  الگ سوچ اور رائے رکھنے والا اور تیسرا طبقہ وہ تھا  جسکی اکثریت کا مقصد دشنام طرازی تھا۔  آخر الذکر میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو طلباء یا مزدور یونینز کےکردار اور اشتراکیت یا سوشلزم  کے مفہوم اور مقاصد سے سرے سے ہی نابلد تھے۔ انکے نزدیک سوشلزم شاید اس بلا کا نام تھا جو مغرب مسلمانوں پر یا اسلامی نظام پر تھوپنا چاھتا تھا تا کہ اسلام کا نام لیوا اس دنیا سے ختم ھو جائے۔ لیکن جب انسے یہ سوال کیا گیا کہ ڈیموکریسی  یعنی جمھوریت کیسی ھے؟  تو انکا جواب تھا کہ جمھوریت تو اچھی ہوتی ھے، بلکہ اسکی بنیاد تو اسلام نے خلفائے راشدین کے دور میں رکھی تھی۔ ان لوگوں  کا یہ جواب صرف اور صرف اس وجہ سے تھا کہ وہ ڈیمو کریسی کو تو عام فہم میں جمھوریت کے نام سے جانتے تھے لیکن سوشلزم یا اشتراکیت یا جسے آسان الفاظ میں اعتدال دولت (آمدنی/دولت کی منصفانہ تقسیم) کہا جا سکتا ھے،  سے واقف نہ ھونے کی وجہ سے اسے ایک مغربی پروپگنڈہ سمجھتے تھے۔ حالانکہ دیکھا جائے دونوں لفظ ہم نے مغرب سے مستعار لیے ہیں۔ لیکن ایک لفظ کو اپنا لیا اور دوسرے لفظ کو بوجہ لاعلمی  کوڑے دان میں پھینک دیا۔ 
میرے خیال میں سوشلزم اور کامونزم دونوں میں فرق کو سمجھنا ضروری ھے۔  سوشلزم  سوسائٹی یعنی  سماج سے    اخذ کیا گیا ھے اور کامونزم کمیون یا کمیونٹی یعنی لوگوں کا اکٹھ یا گروہ  سے نکلا ھے ۔  ان دونوں الفاظ پر غور کیا جائے تو  دونوں کا تعلق لوگوں یا عوام سے ھے جو اکٹھے ایک کمیونٹی کی صورت میں رہتے ہیں۔ معاشی نقطہ نگاہ سے سوشلزم اور کمیونزم دونوں سرمایا داری نظام  کے خلاف ایک ایسی مزاحمتی تحریک ھے جسکا مقصد عام آدمی یا مزدور یا پرولتاریہ جو معاشرے کے پسا ھوا طبقہ تھا کو بورژوازی یا سرمایا داروں کے استحصال سے آزاد کرانا، زرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت میں لا کر دولت یا آمدن کو عوام میں مساوی تقسیم کرنا ھے۔
معاشی طور پر سوشلزم اور کیمونزم میں فرق یہ ہے کہ سوشلزم کیمونزم کی ابتدائ لوئر لیول کی سٹیج ہے جسے سرمایا داری نظام سے کیمونزم کی طرف منتقلی کا مرحلہ کہا جا سکتا ھے ۔ سوشلزم میں بورژوازی یعنی سرمایاداری نظام کا مکمل خاتمہ نہیں ھوتا۔  سیاسی طور پر معاشرے یا ریاست میں اصلاحی تبدیلیوں کے حصول کے لیے  سوشلزم جمھوریت پر یقین رکھتا ھے۔ یعنی سوشلزم  جمھوری بنیادوں پر پارلیمنٹ تک رسائ حاصل کر کے معاشرے میں بتدریج  اصلاحات نافذ کرنے کا حامی ھے۔  جبکہ کیمونزم سوشلزم کی مکمل اور آخری سٹیج ہے ۔ کیمونزم معاشی اصلات کے حصول کے لیے اور زرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت میں لانے کے لیے جمھوریت کی بجائے  انقلاب اور آمریت پر یقین رکھتا ھے۔
جمھوری سوشلزم اور کامونزم کو سمجھنے کے لیے 1951 میں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ھونے والی سوشلسٹ انٹرنیشنل کانفرنس جو کہ  23  ملکوں کی سوشلسٹ جماعتوں کی نمائندہ کانفرنس تھی،  کے اعلامیہ کو اگر پڑھا جائے تو اس میں واضح طور پر کہا گیا ھے کہ۔ 
کامونزم کا جدید سوشلزم میں حصہ داری کا دعویٰ نہ صرف بے بنیاد ھے بلکہ اسنے سوشلزم کا چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا ھے۔ کمیونزم نے ایک تشدد آمیز نظریہ روشناس کروایا ھے جو کہ مارکسزم کی اس روح کے متضاد ھے، کہ جہاں  سوشلزم کا مقصود اس استحصال کو ختم کرنا ھے جو ایک سرمایہ دارانہ نظام کے نتیجے میں انسان کو مختلف طبقات اور گروھوں میں تقسیم کرتا ھے۔ وہاں کامونزم صرف ایک پارٹی کی آمریت کے بل بوتے پر اس طبقاتی تقسیم و امتیاز کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کرتا ھے۔ اس اعلامیہ میں سوشلزم اور کیمونزم میں واضح فرق کھل کر سامنے آ جاتا ھے۔ اسکی رو سے اگر غور کیا جائے تو دنیا میں کئ ترقی یافتہ  ممالک ایسے ہیں جنمیں جدید سوشلزم یا جمھوری سوشلزم رائج ھے۔ ان ملکوں میں سوشلسٹ ڈیموکریٹ ، سوشلسٹ لیبر ڈیموکریٹ یا لیبر پارٹیز موجود ہیں جو کامیابی کے ساتھ ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔  جنمیں برطانیہ، فرانس، اٹلی، سویڈن، کینیڈا، وغیرہ شامل ہیں۔ ان ممالک میں جمھوری سوشلزم کیمونزم کے بر عکس  تمام  زرائع پیداوار کی اجتماعی ملکیت کے حق میں نہیں ہے۔   لیکن چند بنیادی ضروریات مثلاً مفت حفظان صحت کی بنیادی طبی سہولیات ، تعلیم  اور ہر شہری کو کامیاب زندگی گزارنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا حکومت کی زمہ داری ھے۔  نیز ان ممالک میں مذھب پر بھی کوئ پابندی عائد نہیں تمام کمیونیٹیز اپنے اپنے مذھب پر عمل کرنے اور اسکا پرچار کرنے میں آزاد ہیں۔ 
 اسلامی نقطہ نگاہ سے سوشلزم کو سمجھنے کے لیے ایک متوازن اور معتدل معاشرے کو سمجھنا نہایت ضروری ھے۔ ابتدائے اسلام میں جس اسلامی معاشرے کا قیام عمل میں آیا اسکی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ آپ صلعم کا فرمان ھے کہ تم میں سے بہتر وہ ھے جو اپنے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے دوسرے مسلمان بھائ کے لیے پسند کرتا ھے۔ اسکی سب سے اعلی مثال کہ جب حضور صلعم نے مدینہ کے انصار اور مکہ کے مہاجرین کے مابین اخوت  کی بنیاد   رکھی  تو  مدینہ کے انصارنے جذبہ محبت اور اشتراک میں اپنے مہاجر بھائیوں کے ساتھ گھر بار زمینیں اور مال مویشی  تک بانٹ دئے۔ یعنی اسلامی معاشرے نے کثرت دولت سے پیدا ھونے والے طبقاتی  فرق کو مٹا کر دولت کی اجتماعی طور پر تقسیم اور سب کے لیے مساوی  مواقع آمدن کو فروغ دینے کے لیے ایک  مثالی ریاست کا قیام عمل میں لایا۔  
 خلافت راشدہ کے دور میں خلفاء نے بھی انہی روایات کو  برقرار رکھا۔ خلفاء نے خود بھی سادگی اختیار کی ، معاشرے میں اعتدال پسندی کو فروغ دیا  اور غربا و مساکین کے حقوق کا نہ صرف خیال رکھا  بلکہ انکی ضروریات زندگی پر بھی گہری نظر رکھتے ھوئے انہیں پورا کیا۔  یہی وجہ تھی کہ حضرت ابو بکر نے اپنے دور خلافت میں ایک غریب شخص کی کمائ  سے زیادہ اپنی تنخواہ مقرر کرنا گوارا نہ کیا ۔ آپ نے کمزور، بوڑھوں اور اپاہجوں اور ناکارہ ذمیوں کے لیے وظائف بھی مقرر کیے۔   اسی طرح حضرت علی ایک خلیفہ ھونے کے باوجود کھجوریں بیچا کرتے تھے، اور بیت المال میں موجود مال کو تمام غربا اور مساکین میں مساوی طور پر بانٹ دیا کرتے تھے۔ آپ اسلامی مال خانے میں مال کو جمع کیے رکھنے کے حق میں بالکل نہ تھے۔ یوں دیکھا جائے تو دولت کی منصفانہ تقسیم اور زرائع آمدن یا  روزگار کے مساوی مواقع کا تصور اسلام میں کوئ نیا نہیں ھے بلکہ اسلام نے تو سب سے پہلے اس تصور کو پیش کیا۔ اور اپنے ابتدائی دور میں ہی اسلام نے تمام مسلمانوں کے مابین  محبت ،ایثار اور اشتراک کا عملی نمونیہ پیش کر کے دکھایا۔ لیکن اسکے بعد جب ملوکیت کا دور شروع ھوا تو اقربا پروری اور دیگر قباحتوں کی وجہ سے جس ریاست مدینہ کی بنیاد حضور صلعم اور خلفائے راشدین  نے رکھی تھی  اسکا  تصور بھی مدھم پڑتا گیا۔ 
سوشلزم نے بر صغیر میں بھی ان لوگوں کو جو  معاشی استحصال کا شکار تھے،  بڑی حد تک  اپنی طرف راغب کیا۔ قیام پاکستان سے پہلے علامہ اقبال کو بھی مسلمانوں کی معاشی خستہ حالی کا حل صرف سوشل ڈیموکریسی میں نظر آ رہا تھا۔    1936 سے  1937 تک  قائد اعظم کو لکھے گئے خطوط  میں  علامہ اقبال نے بھی مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کا حل سوشل ڈیموکریسی یعنی اشتراکی جمہوریت قرار دیا انکے مطابق مسلمانوں کی معاشی مسائل کا حل ایسی سوشل ڈیموکریسی تھا  جسےشریعت اسلامیہ کی تائید حاصل ھو ۔ بعد ازاں قائد اعظم اور لیاقت علی خان نے اسے باقاعدہ طور پر اسلامی سوشلزم کا نام بھی دیا۔ جس میں اسلامی سوشلزم کی اساس  دولت کی مساویانہ تقسیم کی بجائے سب کے لیےمساوی مواقع فراہم کرنا تھی۔ 
سوشلزم کا تعلق چونکہ سماج یا معاشرے سے ہے اور یہ اس معاشرے میں مختلف مسائل کا مطالعہ اور انکا حل پیش کرتا ھے جیسے فزکس، کیمسٹری، بیالوجی وغیرہ کو سائنسی مضامین کا درجہ حاصل ھے اسی طرح سوشلزم کو بھی سماجی سائنس کہا جا سکتا ھے۔  سوشلزم معاشرے میں عام آدمی کے بنیادی حقوق کی بات کرتا ھے اور جبر، استحصال،  سرمایاداری اور  اجارہ داری سے پاک معاشرے کا پرچار کرتا ھے۔ یہی وجہ ہے کہ لال لال کے نعرے اور سوشلزم کا نام سن کر کچھ  لوگوں کے ہاتھ سے چائے کی پیالی گر جاتی ھے۔ یہ لوگ سوشلزم سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہیں ؟ اسکے لیے  معاشی نظام میں جدید سوشلزم کا مطالعہ ضروری ھے۔  جدید یا جمھوری سوشلزم کا اصل مقصد سیاست اور دولت یا زرائع آمدن پر صرف ایک طبقہ کی اجارہ داری کو ختم کرنا ہے۔ ملکی سیاست میں عام ادمی کی رسائ اور معاشرے میں آمدن کی غیر منصفانہ تقسیم اور معاشی ناہمواری کو کم کرنا ھے تاکہ پورا معاشرہ مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

Wednesday, 6 November 2019

کرتار پور، بھنگڑے اور نیا نقشہ





کرتارپورھداری، بھنگڑے اور نئے نقشے

حکومت پاکستان کی طرف سے کرتار پور راھداری کو کھول کر دنیا کو پیغام دیا گیا ھے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ھے اور اسکا شدت پسندی سے کوئ لینا دینا نہیں ہے۔سکھ  بھائیوں کو انکے مذھبی مقام تک بغیر ویزہ کے رسائ دینا واقعی ایک قابل تعریف عمل ھے۔ خالصتان میں تان کا لفظ  پاکستان سے ادھارلیا گیا ھے، اس لحاظ پاکستانی قوم  کی  سکھ بھائیوں سے  ہمدردی تو بنتی ھے۔ عمران خان صاحب کے اس اقدام کو  بھارتی پنجاب میں کافی پزیرائی مل رہی ھے اور انکے اس عمل کو سراہا جا رہا ھے۔ لیکن اس سارے  منظر میں کشمیر کہیں غائب سا ھو گیا ھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ھے کہ مولانا کے دھرنے نے کشمیر کو منظر عام سے ہٹا دیا ھے۔۔ 
پاکستان نے کشمیر کی آزادی کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا سوائے ایک کے ، اور وہ تھا یو این او کی قراردادوں پر عمل ۔ پاکستان کی طرف سے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے دعوے اسوقت دھرے کے دھرے رہ گئے جب بھارت نے باضابطہ طور پرلداخ کو جموں کشمیر سے الگ کر کے لداخ اور جموں کشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر کے باقاعدہ اپنا حصہ بنا لیا اور خطے کی سرکاری زبان کو بھی اردو کی بجائے ھندی اور انگریزی میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ بات صرف یہاں ہی ختم نہیں ھوئ بلکہ بھارت نے پاکستان سے نئ نئ دوستی کا حق ادا کرتے ھوئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنے نئے نقشے میں  اپنی ان دو نئ یونین  ٹیریٹریز میں شامل کر لیا ھے۔  جس پرحکومت پاکستان شدید رد عمل دیتے ھوئے یو این او کے صدر دروازے کو پیٹ پیٹ کر اسے توڑنے ہی والی تھی کہ کسی خدا کے نیک بندے نے انہیں   بتایا کہ اس بلڈنگ کے لوگ کب کے جا چکے ہیں۔
اس سارے تناظر میں آزاد کشمیر کے حالات کو اگر دیکھا جائے تو  آزاد کشمیر کا یہ حال ہے کہ یہاں دو طبقے پائے جاتے ہیں۔  ایک طبقہ ایسا ھے جو حکومت پاکستان کی ھر بات کو بنا چون و چراں صدق  دل سے قبول کر لینے کوایمان کا حصہ سمجھتا ہے ۔ اور دوسرا طبقہ ایسا  ہے جو اس سارے عمل پر غم و غصہ کا اظہار کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا ۔
بھارت ایک انتہائ معصوم اور  سادہ ملک ثابت ھوا ہے، اسنے کمال سادگی سے کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی اینٹ کا استعمال نہیں کیا  جس سے پاکستان کو کوئ ایسا موقع ملتا کہ وہ بھارت پر پتھر برسا برسا کر اسے نیست ونابود کر دیتا۔ اگر خدا نخواستہ یہ اینٹ اور پتھر کی جنگ شروع ھو جاتی تو شاید پاک و ہند میں ماحولیاتی آلودگی بڑھنے سے تمام گلیشئر پگھل جاتے اور غریب لوگوں کے لیے اے سی نہ ھونے کی وجہ سے گرمی برداشت کرنا مشکل ھو جاتی، غریب مہنگائ سے توشاید بچ جائیں لیکن گرمی سے انکے ہلاک ھو جانے کا خطرہ زیادہ  ھوتا ہے۔
ایک بات کی داد تو دینا پڑے گی کہ دونوں ممالک گلوبل وارمنگ کے خطرے کے پیش نظر آپس میں  امن کی بھاشا بول رہے ہیں۔ لیکن کیونکہ  یہ  امن کی بھاشا کنٹرول۔لائن والوں کو سمجھ نہیں آتی اس لیے وہاں ایسی بھاشا بولنے کا کوئ رواج  نہیں ہے۔   جسطرح پاکستان نے کرتار پور راھداری کھول کر انڈیا اور سکھوں کو اپنا سمجھ کر گلے لگایا اور انھیں بلا روک ٹوک پاکستان میں آنے کی اجازت دے دی  ویسے ہی ھندوستان نے بھی آزاد کشمیر  اور گلگت بلتستان کو نہ صرف زبانی کلامی اپنا مانا ھے بلکہ اپنے پوتر اکھنڈ بھارت کے نقشے میں بھی شامل کر کے زینت بخشی ھے۔ اسکے نئے نقشے کی رو سے اگر آزاد کشمیر کے لوگ اپنے دوسرے حصے بھارتی کشمیر میں جانا چاہیں تو انہیں جانے کا حق حاصل ھو گا؟، بھارت نے اتنا سوچ بچار  کر کے جس محبت سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنے نقشے میں شامل کیا ھے اسکا اتنا  فایدہ تو ھونا چاہئے کہ 71 سالوں سے بچھڑے عزیز رشتہ دار آپس میں مل بیٹھ سکیں۔  ۔ ھندوستانی فوج کی طرف سے آزاد کشمیر کی کنٹرول۔لائن پر کشمیریوں کو نئے نقشے کے تحت دونوں اطراف میں آنے جانے کی ممانعت تو نہیں ھونی چاہئے، کیونکہ بھارتی سرکار نے بغیر شرائط کے  ہمیں  اپنا ماننے میں کھلے دل سے پہل کی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم مودی کو یہ خیال اسوقت آیا جب انھوں نے منٹو کا افسانہ ٹیٹوال کا کتا پڑھا، اس افسانہ کے پڑھنے کے بعد مودی کو کتے کی حالت پر بہت ترس آیا۔ اور انھوں نے ٹیٹوال اور کتے دونوں کو اپنا بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
کرتارپور سے ھندوستانی اگر انٹرنیشنل بارڈر بغیر ویزہ  کےعبور کر کے پاکستان آ سکتے ہیں تو کشمیریوں کو اپنی ہی ریاست میں آر پار جانے کے لیے کوئ مشکل تو درپیش نہیں آنی چاہئے، ۔ کنٹرول لائن پر تعینات بھارتی فوج کو  اپنے نئے شہریوں کا گرم جوشی سے استقبال کرنا چاہئے ۔ اور خیر سگالی کے طور پر مٹھائ کے ٹوکرے حکومت پاکستان اور واھگہ بارڈر بھیجنے چاہئیں۔
 اتنا سب کچھ ھو جانے کے بعد  اب پاکستان کی فوج کا کنٹرول لائن پر " تو کون، میں خواہ مخواہ" والا کھیل ختم
 ھونا توبنتا ہی ہے

(نوٹ)
ضروری نہیں کہ قارئین میری تحریر سے اتفاق ہی کریں۔ اختلاف کی صورت میں  موجودہ صورتحال پر ایک عدد مضمون لکھ کر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ 

Saturday, 2 November 2019

آزاد کشمیر اور پاکستان کے موجود ہ حالات کا تنقیدی جائزہ




جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس برطانیہ کے زیر اہتمام برمنگھم میں کمیونسٹ پارٹی انڈیا کی ڈاکٹر نور ظہیر کے ساتھ جموں کشمیر کے تمام منقسم اور  جبری فوجی قبضے اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے ایک سنجیدہ مقالمہ کا اہتمام کیا گیا جس میں انڈیا پاکستان اور جموں کشمیر کے بائیں بازو کےزعما نے شرکت کی جبکہ ممتاز ترقی پسند دانشور اور مزاحمتی تجزیہ نگار پروفیسر نزیر نازش نے تمام صورتحال پر سیرحاصل گفتگو بھی کی۔
 جے کے پی این اے کی طرف سے ندیم اسلم ایڈووکیٹ نے پی کےاین اے کے قیام اور مقاصد پر روشنی ڈالتے ھوئے خطے میں موجود مسائل اور انکے ممکنہ حل کے لیے مثبت اقدام اٹھانے پر زور دیا۔ کامریڈشاہد ہاشمی، شمس الرحمن، ڈاکٹر مسفر حسن، اظہر سلیم، جے کے این اے پی یو کے  کے آرگنائزر عرفان اشرف، ناظم بھٹی، این ایس ایف پاکستان کے وقاص بٹ نے پاکستان لیفٹ کی نمائندگی کرتے ہوے خصوصی طور پر شرکت کی۔ 

شرکا  نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ھوئے کہا  کہ جنوب مشرقی ایشیا بشمول جموں کشمیر کے عوام کا مستقبل ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور خطہ میں مودی سرکار مذہبی جنونیت نے کرفیو کی آڑ میں جموں کشمیر میں انسانی کو بری طرح پامال کیا ہے اور پاکستان میں دائیں بازو کا ملا ملٹری اتحاد ترقی اور خوشحالی کو چھوڑ کر عدم برداشت اور جنگی جنون کو فروغ دہ رہے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر کے محکوم عوام کی جدو جہد ضرور رنگ لائے گی اور وہ بھی ایک متحد خود مختاراور خوشحال کشمیر ضرور دیکھیں گے جو کہ خطہ ۔ میں امن ترقی اور سلامتی کا ضامن ہو گا۔

Friday, 6 September 2019



یزید ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک نظام کا نام ھے


محرم الحرام کا مہینہ ہے اور یہ مہینہ ہمیں جناب عالی
مقام حضرت امام حسین کے  واقعہ کربلا جو کہ اصل میں معرکہ حق و باطل تھا کی  یاد دلآتا ہے۔ حق و باطل کی یہ جنگ  ازل سے ابد تک ہمیشہ جاری رہے گی ۔   سرخرو ھونا ھے اگر تو زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں امام  حسین  کے نقش پا کی پیروی کرنی چاہئے کیونکہ یہی حق والوں کا شیوہ رہا ھے۔
واقعہ کربلا کا بغور مطالعہ کیا جائے تو در حقیقت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کسی ایک فرد کے خلاف جہاد نہیں کیا بلکہ یزیدکے اس نظام کے خلاف جہاد کیا تھا  جو کہ اسلامی نظام کے برخلاف تھا حسین حق پر تھے اور یزید باطل پر تھا ۔ آج اگر اس واقعے کو دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ھو گا کہ وہ یزیدی نظام اور سوچ آج بھی ھمارے معاشرے میں اور ہماری ریاست میں موجود ھے، جس کے ھاتھ تھوڑی بہت طاقت آ جائے وہ یزیدیت پر اتر آتا ہے۔
ہمیں تو حسین کے نقش قدم پر چلنا ھے اور چلتے رہیں گے لیکن اسکے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ھو  گا کہ آج کے یزید کون ہیں جب تک ہم یہ معلوم نہیں کر سکتے ہمارے لیے امام حسین کے راستے ، حق کے راستے پر چلنا دشوار ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ھو گا۔ لیکن یہ معلوم کرنا اتنا مشکل بھی نہیں، بات سادہ سی ھے کہ وہ کون سے عناصر ہیں  جو لوگوں کی زبان بندی  کر رہے ھیں، جو لوگوں کو بات بات پر غداری   کے فتوے جاری کر رہے ہیں۔  جو لوگوں کی بات سننے کی بجائے انکا گلا گھونٹ رہےہیں اور جو لوگوں کی آوازوں کو انکے جسم سمیت غائب کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ھو گا کہ یہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
آج کے یزیدی نظام  کو معلوم ہے کہ جن آوازوں کو وہ دبا رہا ھے بہت کم ہیں مگر اسکے یزیدی نظام کے لیے ایک آنے والے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ھو سکتی ہیں۔ اس یزیدی نظام کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ ھر ممکن کوشش کررہا کہ ھے کہ  اصل حقائق شعور کو عوام تک ہی نہ پہنچنے دیا جائے تا کہ یہ جو چاہیں کرتے رہیں۔
آئے دن جن آوازوں کو دبایا جا رہا ہے یا لوگوں کو غائب کیا جا رہا ہے  ان کو اگر دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ھو گا کہ یہ کوئ بس ڈرائیور، کنڈکٹر، ریڑھی بان، خوانچہ  فروش، یا پھر حلوائی ، حجام یا موچی وغیرہ   نہیں بلکہ معاشرے کے اعلی تعلیم یافتہ اور ایسے باشعور افراد ہیں جو اپنے  لیےنہیں بلکہ اپنے اہل علاقہ اور خطے کے حقوق کی بات کرتے ہیں، جو اس ملک میں غلط اور متعصب نظام کے خلاف بات کرتے ہیں اور حق کی بات کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے افکار و خیالات سے  عوام کو شعور دے سکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی جبری گمشدگیاں اور غائب ھو جانا ایک عام سی بات ھو چکی ھے۔ اس ملک کی تاریخ میں کئ دانشوروں،  شاعروں اور حق گو شخصیات پر غداری کے فتوے لگائے گئے انہیں پاںند سلاسل کیا گیا اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ھے۔ حال  ہی میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر انعام بھٹی کا غائب کیا جانا اور اسپر ریاستی اداروں کا چوں تک نہ کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ھے جو کہ یزیدی نظام کا منہ بولتا ثبوت ھے۔
یہ ملک تو اسلام کے نام پر لیا گیا تھا مگر بد قسمتی سے یہاں جس نظام کا زور رہا ھے وہ حسینیت کے بر خلاف رہا ھے۔ لوگوں کو انکے  اختلاف رائے پر یا تنقید پر زبان بندی یا غائب کر دینا کہاں کا انصاف ھے۔ ریاست میں  عدالتیں موجود ہیں لیکن پھر بھی کچھ یزیدیت کے پیروکار اپنی مخالف آوازوں سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ انہیں  قانونی گرفت میں لانے کی بجائے غائب کر دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ یزیدی نظام اس بات سے نالاں ہے کہ اس ملک کا یہ اعلی تعلیم یافتہ دانشور طبقہ اس ملک  کے بس ڈرائیور، کنڈکٹر، حجام، موچی، مستری، اور مزدور پر کہیں اس یزیدی نظام کی اصلیت کا پول نہ کھول دے۔
 اگر ان لوگوں پر اتنا ہی سنگین الزام ھے تو ان پر عدالتوں میں مقدمات کیوں نہیں کیے جاتے،  انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، ان لوگوں کو بھی اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع دیا جائے اور اگر ان پر الزام  ثابت ھوتا ھے تو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔۔۔۔ لیکن افسوس کہ یہ یزیدی نظام کے پیروکار صرف اور صرف یزیدی عدالتوں کے قائل ہیں یہاں ملزم کو اپنی صفائ میں بولنے نہیں دیا جاتا ۔۔۔ بس غائب کر دیا جاتا ھے۔

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ھے
اسلام زندہ ھوتا ھے ہر کربلا کے بعد

Thursday, 22 August 2019

محصورین کی عید


محصورین کی عید


کیا عید منائی لوگوں نے
جہاں گھر بازار مقفل ہیں
جہاں شہر ھوئے ویرانے کی نظر
جہاں مسجد ممبر سب بند ہیں
بس غاصب فوج کا پہرا ھے
ھے حکم کوئ نہ نکلے باھر 
ھر بیمار یہ اب سوچتا ھے 
کیسے  دوا پہنچے گی انہیں
جہاں ھر دکاں مقفل ھے
ھر سو کرفیو کا ڈیرا ھے
بچوں کی بلکتی آوازیں 
جو دیکھنے سے اب قاصر ہیں
کیا ماں انہیں اب یہ سمجھائے
کیوں صبح کا رنگ اب کالا ھے
دہلی سے چلی اک لڑکی اب
 رخت سفر یوں باندھتی ھے
 توڑ کے پہرے اب، سب وہ
دل ہی دل میں یہ ٹھانتی ھے
شوگر کے مرض میں والد کو 
اک انسولین پہنچانے پر
کیا گزری اس پہ، وہ جانتی ھے
کشمیر تیر ی قسمت ہے  ایسی 
تجھے اپنوں، غیروں نے گھیرا 
ترے نام پہ جاں جو وار گئے
انکی بیواؤں، یتیموں کا
ان بے وارث ضعیفوں کا
ظلم کی کالی راتوں میں ج
جب ٹپ ٹپ آنسو گرتاہے ں
ان معصوموں کے نام پہ جب
کچھ کھیل تماشے والے لوگ
 ترے نام کی ڈگڈگی باندھتے ہیں 
یوں انکا چولہا جلتا ھے
توقیر لون
                                                              .
                            

Saturday, 17 August 2019

سلامتی کونسل کااجلاس اور ہماری تیاری



سلامتی کونسل کا اجلاس اور ہماری تیاری۔۔۔

تحریر۔ توقیر لون
سلامتی کونسل میں چین کے مندوب کی طرف سے جو بیان دیا گیا ھے اسمیں انھوں نے  کشمیر میں ھندوستان کے اقدامات کی مزمت کرتے ھوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر سے جڑی ھوئ کوئ بھی متعلقہ پارٹی  یک طرفہ طور پر کشمیر سے متعلق کوئ فیصلہ کرنے سے گریز کریں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ھندوستان نے چین کی خودمختاری کو بھی چیلنج کیا ہے۔
 میرے خیال میں چینی مندوب کے اس بیان کا مقصد شاید یہ ھو کہ چونکہ چین بھی اس مسئلے کا فریق ھے۔ انڈیا کا آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانےاور کشمیر پر مکمل قبضہ کرنے  سے چین کی خودمختاری کو بھی چیلنج کیا گیا ھے اور کسی بھی جنگ کی صورت میں چین بھی شامل ھو سکتا ھے۔۔۔    

ملیحہ لودھی نے جو انڈیا کے خلاف بیان دیا وہ ناکافی تھا۔۔ ملیحہ لودھی کو چاہئے تھا کہ وہ پریس کانفرنس جو ایک نادر موقع تھا انڈیا کی جمھوریت کو بے نقاب کرنے کا۔۔۔ انڈیا کی فاشسٹ حکومت کی سربراہی میں اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کا جو قتل ھو رہا ھے اسے بے نقاب کرنے کا اور پھر اسی بات کو کشمیر سے لنک کرنا چاہئے تھا جہاں پلیٹ گنز سے ایک پوری نسل کو  اندھا کیا جا رھا ھے، جہاں مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ھے۔۔ جہاں عزتیں لوٹی جا رہی ہیں۔ اور جس پر ھیومن رائٹس کی رپورٹ بھی ثابت کر رہی ھے کہ انڈیا جو ایک ایک فاشسٹ حکومت ہے ہیومن رائٹس کی بد ترین خلاف ورزی کر رہا ھے۔  
اس بات پر توجہ دینے کی بجائے وہ شاہ محمود قریشی کی کاوشوں سے سلامتی کونسل کے اجلاس پر دنیا کے صحافیوں کو مطلع کر رہی تھیں۔۔۔ ملیحہ لودھی صاحبہ کی تیاری اس سطح پر نہیں تھی کہ جتنی ھونی چاہئے تھی۔۔ پھر جب لوگ انسے سوال کرتے ہیں تو یہ برا مان جاتی ہیں۔ 

اسکے برعکس انڈین مندوب نے نہایت چالاکی سے اپنا موقف پیش کیا اور سوالوں کے جوابات بھی دیے۔۔ اندین مندوب نے ھیومین رائٹس وائلیشن کے سوالات کو گول مول کر دیا۔ اور الٹا پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے رہے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کی جا رہی ھے۔۔۔  دوسری طرف ہمارے صحافیوں کی طرف سے سوالات کوی اتنے جاندار
 بھی نہیں تھے کہ ھندوستانی مندوب کو ھیومین رائٹس
وائلیشن ہر اسے آڑے ھاتھوں لیتے۔۔ 

سال نو اور فیسبک نئے سال میں  چلے تو آئے خوشی سے اب اس سال میں  کیا کیا بدلاؤ ھو گا وہی ہم اور وہی  تم ہی تو ھوں گے وہی...