Sunday, 21 July 2019

امن کے متلاشی درے



امن کے متلاشی درے

 تحریر۔  توقیرلون 

پاکستان بشمول آزاد کشمیر کے حالات جس ڈگر پر ڈگمگا رہے ہیں انکے پیش نظر ایسے فیصلوں کا انتخاب انتہائ نا گزیر ھو چکا ھے کہ جن سے عوام کی فلاح و بہبود کے در کھولے جائیں ، ملک میں معاشی استحکام پیدا ھو اور خطے میں کشیدہ صورتحال کو ختم کیا جا سکے۔ پاک فوج نے ملکی حالات کو بھانپتے ھوئے آپنا بجٹ تو کم کر دیا ھے جو کہ انتہائ قابل تحسین ھے مگر کیا ہی اچھا ھوتا کہ ہم کنٹرول لائن پر آئے دن دوطرفہ فائرنگ کا بھی کوئ حل نکال سکتے جس سے آئے روز کے جانی و مالی ضیاع اور ملٹری کے اخراجات میں مزید کمی ممکن ھو سکتی۔ دونوں اطراف سے یہی گولیاں اور مارٹر گولے اگر برسنا بند ھو جائیں تو یہی پیسہ کتنے غریب لوگوں کی روزی روٹی کا باعث بن سکتا ہے۔ 
ہندوستان کی فضائیہ کا پاکستان میں بالاکوٹ کے مقام پر حملے کے بعد دونوں ملکوں میں تناؤ اور کشیدگی کی جو صورت حال پیدا ھوئی اس کا سب سے زیادہ خمیازہ اہل کشمیر کو بھگتنا پڑا۔ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف عام شہری اسکا نشانہ بنے انکے مال مویشی گھر بار اہل و عیال سب اسکی زد میں آنے سے نہ بچ سکے۔ اگر دیکھا جائے تو اس سارے تناظر میں اہل کشمیر کی حالت دو بیلوں کی لڑائ میں گھاس کے مصداق تھی۔
کنٹرول لائن پر کشیدہ حالات کے پیش نظر حکومت کی طرف سے لوگوں کو بنکرز بنا کر دینے کی خبر بھی محو گردش ھے۔ لیکن سوال یہ پیدا ھوتا ہے کہ کیا آئے روز جھڑپوں سے معصوم جانوں کا ضیاع اور لوگوں کی املاک کو جو نقصان پہنچ رہا ھے اسکا حل صرف اور صرف لوگوں کو بنکرز ہی بنا کر دینا ھے ؟ کیا ہمارے حکمران اس مسئلے کا کوئ اور بہترین حل بھی ڈھونڈنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں؟ رات کی تاریکی میں کنٹرول لائن پر گھروں میں سوئے ھوئے لوگوں کو اگر کسی میزائل نے اتنی مہلت دے دی کے وہ پورا کنبہ بنکر میں گھس کر زندگی بچا سکے تو یہ انکی خوش نصیبی ھو گی وگرنہ کچھ معصوم جانوں کو تو شاید اتنی مہلت بھی نہ مل سکے۔ 

مانا کہ انڈیا ہمارا حریف ملک ھے مگر کیا ایسا ممکن نہیں ھے کہ حریف ملک سے کنٹرول لائن کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ھوئے ایسے معاہدات کر لیے جائیں جو دونوں ملکوں کی عوام اور معیشت کے لیے بہتر ثابت ھوں اور لوگوں کو آپسی تجارت اور سیاحت کے مواقع مل سکیں جس سے نہ صرف لوگوں کے زریعہ معاش میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ حکومت کے ٹیکس ریوینیو میں بھی خاطر خواہ اضافہ ھو سکتا ھے۔ حکومت وقت کا کام اپنے شہریوں کی جان و مال کو محفوظ بنانا ھوتا ھے نہ کہ انہیں داؤ پر لگائے رکھنا۔ میرے خیال میں یہ کوئ اتنی بڑی راکٹ سائنس تو ہے نہیں کہ جسے سمجھنے کے لیے ناسا کی مدد لی جائے۔ اگر خطہ میں امن کے فروغ کے لیے کرتار پور راہداری دو ملکوں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھل سکتی ہے تو کشمیر کو بھی کشمیر سے ملنے دیا جانا چاہئے۔کنٹرول لائن کے آر پار دو حصوں میں بٹی ھوئ آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں کشمیر دراصل ایک ہی ریاست ہے, فروغ امن کے لیے اسکے پرانے اور تاریخی راستوں کو  بحال کیا جانا چاہئیے۔ کشمیریوں کے لیے بھی ایسی آسانیاں پیدا کی جائیں کہ وہ اپنی ہی ریاست کے دونوں اطراف آسانی سے آ اور جا سکیں، اپنے پیاروں سے مل سکیں اور اپنے مذھبی مقامات کی زیارت کر سکیں۔ 
پاکستان اور بھارت کو اپنے اپنے ملکی حالات و مفادات کے پیش نظر ایسے ہی دلیرانہ فیصلے اور معاہدات کرنا ھوں گے تا کہ کنٹرول لائن جسے کسی دور میں سیز فائر لائن کا نام دیا گیا تھا، پر دو طرفہ فائرنگ کے واقعات کو ختم کیا جا سکے اور دونوں جانب آئے دن مرتے ھوئے کشمیریوں کو بھی سکھ کا سانس لینے دیا جائے۔ یقین جانیے اس پار کے کشمیریوں کی اس پار کے کشمیریوں سے کسی قسم کی کوئی لڑائ نہیں ہے اور اقوام متحدہ بھی کشمیریوں کی کنٹرول لائن کے دونوں جانب آزادانہ نقل و حمل  کا یہ حق تسلیم کرتی ھے اور  کشمیر کا اگر پر امن حل ڈھونڈنا مقصود ھو تو اسکا نقطہء آغاز بھی یہی ھو گا۔

کشمیر میں گزشتہ کم و بیش تین دہائیوں میں ایک پوری نوجوان نسل کشمیر میں جاری جہاد ۔میں اپنی جان کی قربانی دے چکی ھے مگر ابھی تک مسئلہ کشمیر کا حل تلاشا نہیں جا سکا۔ اسکی وجوہات جو بھی ھوں لیکن ایک بات واضح ہے کہ ہم شاید یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ 9/11 کے بعد دنیا کے حالات ایسے تبدیل ھو چکے ہیں کہ کسی بھی مسلح تحریک حریت کو دہشت گرد تحریک کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ھے اور دنیا اس تحریک کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتی ھے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ھو گا کہ جہاد کے نام پر ہم جن لوگوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں یا جنہیں ہم ہیرو کے طور پر پیش کر رہے ہیں وہ اقوام عالم میں میں ھمارے لیے باعث شرمندگی بن چکے ہیں۔
رواں سال پاکستانی و کشمیری سیاستدانوں نے برطانوی پارلیمنٹ ہاؤس میں بڑی کامیابی کے ساتھ کشمیر کانفرنس منعقد کی جسمیں کشمیریوں پر جاری ظلم و جبر کا پول کھول کر بھارت کو بے نقاب کیا گیا۔ اس کانفرنس کے فوراً بعد ابھی کشمیریوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں اپنے لیے ھمدردی سمیٹی ہی تھی کہ پلوامہ حملہ ھو گیا جسکے نتیجہ میں تمام دنیا کی ھمدردیاں بھارت کے ساتھ ھو گئیں اور۔ بھارت مظلوموں کی لسٹ میں پھر سے شامل ھو گیا۔
پاک و ہند کے درمیان کشمیر کے نام پر متعدد جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں اور ابھی بھی کنٹرول لائن پر آئے دن جھڑپوں کے واقعات رونما ھوتےرہتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک اپنے جنگی جنون کو ایک طرف رکھ کر سنجیدگی سے سوچ بچار کریں اور سازگار ماحول پیدا کرتے ھوئے امن کو بھی ایک موقع فراہم کر ہی دیں تو یہ تناؤ اور کشیدہ صورتحال تبدیل کی جا سکتی ہے۔
کشمیر کے منصفانہ اور پر امن حل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں میں بات چیت کے بند کواڑوں کو کھولا جائے۔ کنٹرول لائن پر دونوں اطراف کے کشمیریوں کے لیے امدورفت کے مواقع فراہم کیے جائیں تا کہ دو نوں حصوں کی عوام اور بچھڑے ھوئے خاندان آپس میں مل سکیں، لوگوں کو آپسی تجارت اور سیر و سیاحت کے مواقع فراہم کیے جائیں اور انہیں پر امن فضا میں سانس لے لینے دیا جائے تو اسمیں کوئ شک نہیں کہ دو طرفہ تعلقات سے جہاں تجارت کو فروغ ملے گا وہاں لوگوں کی معاشی حالت میں مثبت تبدیلی رونما ھونے کا قوی امکان بھی موجود ھے۔ ویسے بھی معاشی طور پر مستحکم اقوام ہی اپنے مستقبل کا بہتر فیصلہ کر سکتی ہیں۔ 

Friday, 12 July 2019

بھارتی سفارتی فتح کی خبر




بھارتی سفارتی فتح کی خبر؟


تحریر۔  ڈاکٹر سید نذیر گیلانی


کشمیرمیں انسانی حقوق کی پائیمالی پر اقوام متحدہ کی 
دوسری رپورٹ اور صرف ہمارے مطلب کی رپورٹ ہر گز نہیں جون 29اور30 کو سری نگر، مظفرآباد اور راولپنڈی سے شائیع ہونےوالے کشمری  اخبارات میں، ایک ہی موضوع کی خبر شائیع ہوئی کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی رپور ٹ کو منظر عام پر نہ لانے کے فیصلے سے بھارت کو بڑی سفارتی کامیابی ہوئی ہے اور اس دباؤ میں اہم مما لک شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی پہلی رپورٹ 14 جون 2018 اور دوسری رپورٹ 8 جولائی 2019 کو منظر عام پر آئی، اور اخبارات میں، شائيع کی گئی خبر بے بنیاد ثابت ہوئی۔

بھارتی سفارت کاری کی فتح کی یہ بے بنیاد خبر کیوں شائیع کرائی گئی، اس کا ایک اپنا خاص، پس منظر ہے۔ اس میں کچھ لوگوں کے اپنے، روز مرہ کے معاملات بھی تھے۔ جن اخبارات نے خبر شائیع کی ان کی ساکھ کا ہی مسئلہ نہيں، بلکہ ان کی کم علمی اور ان کے ذرائیع کی غیر معتبریت بھی سامنے آئی۔

اول جنیوا جانے والا ہر کشمیری، گلے میں کسی ہمدرد
NGO ک
پاس ڈال کر، کسی پوسٹر کے سامنے کھڑے ہو کر، کسی فلیگ، ایونٹ میں کسی ڈائیس پر بیٹھ کر، یا اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے کھڑے ہو کر تصویر کھچوانے سے معلومات اور سسٹم کی جانکاری کا معتبر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے کشمیرکاز کی کوئی خدمت ہوتی ہے۔

دوئیم ہیومن رائیٹس کونسل میں پاکستان کی رکنیت 2020 تک اور انڈیا کی 2021 تک ہے۔ امریکہ اور کئی دوسرے با اثر مما لک اسرائیل کواسرائیل مخالف اکثیرتی ووٹ سے نہیں، بچا سکے اور اسرائیل کے جنگي جرائیم کی تحقیات کے لۓ، اقوام متحدہ کاتحقیقاتی کمیشن قائیم ہو گیا۔

اسرائيل کے خلاف،فلسطين پر  بلاۓ گۓ اس سپیشل سیشن میں JKCHR نے بھی تحریری گزارشات پیش کی تھیں، جنہیں جنرل اسمبلی کے ڈاکومنٹ کی صورت میں ریلیز کیا گيا ہے۔

جنیوا جانے والے کچھ دوست، ایک فیشن اور کچھ قلی (ڈيلی ویجر) کا کام کرتے ہیں اور افواہوں کی ٹرالی کھینچنا ان کا کا م رہ جاتا ہے۔  ان میں اکثریت کا اقوام متحدہ اورکشیریات کا علم ذیادہ معتبر بھی نہیں۔ 

کم علمی اور ذبان کے احتیاج کی وجہ یہ، شرمیلی دلہن کی طرح ڈر کے مارے گھونگٹ بھی نہیں اٹھاتے۔ اور اکثر سنی سنائی کی وجہ غلطیاں کرتے ہں۔ اکثر جگ راتے کی وجہ تھکے ہارے بھی ہوتے ہیں۔ ولائتي لسی کے بڑے گلاس بھی، طبيعت ميں، بانکپن کا ذریعہ بن جاتے ہہں۔ پھر جب بھوکے کو گلاس مل جاتا ہے وہ"پی پی پانی آفر جاتا ہے"۔

اچھے، قابل اور کمٹڈ احباب بھی ہیں۔ لیکن یہ دو نمبری سب محنت اور معتبریت پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ اخبارات میں ان کے لگے کالم اور نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی 8 جولائی 2019 کی منظر عام پر آنے والی رپورٹ، OHCHR نے 12 جون 2019 کو حکومت ہندوستان اور حکومت پاکستان کو اس ایڈوائیس کے ساتھ بھیجی تھی کہ وہ 17 جون 2019 تک اپنے  
دیںComments۔

اس میں شک نہیں، کہ بھارت نے، رپرٹ  شائیع  نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ لیکن رپورٹ پر باقی لوگوں کی معتبر اور عقابی نظریں لگي تھیں ۔ اقوام متحدہ کو اس بات کا پورا احساس تھا۔

 اخبارات میں شائیع کرائی گي خبر بے بنیاد ثابت ہوئی۔
رپورٹ میں موجود  کسی بھی سہواور غلطي  کی درستگی، کے لۓ دونوں مما لک کو 12 جون سے 17 جون تک کی مہلت دی گئی تھی۔

رپورٹ کو سمجھنے کے علمی اور قانونی زاويے ہیں۔ یہ آسان اورصرف ہمارے مطلب کی رپورٹ ہر گز نہیں۔ نہ ہی اسے ایک ٹویٹ کے ذريعے سمجھایا جا سکتا ہے۔ 

 Comments

کشمیر پراقوام متحدہ کی 14 جون 2018 اور 8 جولائی 2019 کی دونوں Reports کا منظر عام پر آنا بہت بڑی کامیابی ہے۔ آگے کی ذمہداری ہم سب کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مارچ1956 کے سری نگر کے دوروزہ دورے کے بعد، اقوام متحدہ کی کشمیرمیں  یہ، دوسری اور تیسری بڑی دلچسپی ہے۔ آگے کے اقدامات بہت اہم اور ضروری ہیں۔

Dr. Syed Nazir Gilani
President JKCHR

سال نو اور فیسبک نئے سال میں  چلے تو آئے خوشی سے اب اس سال میں  کیا کیا بدلاؤ ھو گا وہی ہم اور وہی  تم ہی تو ھوں گے وہی...