Friday, 12 July 2019

بھارتی سفارتی فتح کی خبر




بھارتی سفارتی فتح کی خبر؟


تحریر۔  ڈاکٹر سید نذیر گیلانی


کشمیرمیں انسانی حقوق کی پائیمالی پر اقوام متحدہ کی 
دوسری رپورٹ اور صرف ہمارے مطلب کی رپورٹ ہر گز نہیں جون 29اور30 کو سری نگر، مظفرآباد اور راولپنڈی سے شائیع ہونےوالے کشمری  اخبارات میں، ایک ہی موضوع کی خبر شائیع ہوئی کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی رپور ٹ کو منظر عام پر نہ لانے کے فیصلے سے بھارت کو بڑی سفارتی کامیابی ہوئی ہے اور اس دباؤ میں اہم مما لک شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی پہلی رپورٹ 14 جون 2018 اور دوسری رپورٹ 8 جولائی 2019 کو منظر عام پر آئی، اور اخبارات میں، شائيع کی گئی خبر بے بنیاد ثابت ہوئی۔

بھارتی سفارت کاری کی فتح کی یہ بے بنیاد خبر کیوں شائیع کرائی گئی، اس کا ایک اپنا خاص، پس منظر ہے۔ اس میں کچھ لوگوں کے اپنے، روز مرہ کے معاملات بھی تھے۔ جن اخبارات نے خبر شائیع کی ان کی ساکھ کا ہی مسئلہ نہيں، بلکہ ان کی کم علمی اور ان کے ذرائیع کی غیر معتبریت بھی سامنے آئی۔

اول جنیوا جانے والا ہر کشمیری، گلے میں کسی ہمدرد
NGO ک
پاس ڈال کر، کسی پوسٹر کے سامنے کھڑے ہو کر، کسی فلیگ، ایونٹ میں کسی ڈائیس پر بیٹھ کر، یا اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے کھڑے ہو کر تصویر کھچوانے سے معلومات اور سسٹم کی جانکاری کا معتبر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے کشمیرکاز کی کوئی خدمت ہوتی ہے۔

دوئیم ہیومن رائیٹس کونسل میں پاکستان کی رکنیت 2020 تک اور انڈیا کی 2021 تک ہے۔ امریکہ اور کئی دوسرے با اثر مما لک اسرائیل کواسرائیل مخالف اکثیرتی ووٹ سے نہیں، بچا سکے اور اسرائیل کے جنگي جرائیم کی تحقیات کے لۓ، اقوام متحدہ کاتحقیقاتی کمیشن قائیم ہو گیا۔

اسرائيل کے خلاف،فلسطين پر  بلاۓ گۓ اس سپیشل سیشن میں JKCHR نے بھی تحریری گزارشات پیش کی تھیں، جنہیں جنرل اسمبلی کے ڈاکومنٹ کی صورت میں ریلیز کیا گيا ہے۔

جنیوا جانے والے کچھ دوست، ایک فیشن اور کچھ قلی (ڈيلی ویجر) کا کام کرتے ہیں اور افواہوں کی ٹرالی کھینچنا ان کا کا م رہ جاتا ہے۔  ان میں اکثریت کا اقوام متحدہ اورکشیریات کا علم ذیادہ معتبر بھی نہیں۔ 

کم علمی اور ذبان کے احتیاج کی وجہ یہ، شرمیلی دلہن کی طرح ڈر کے مارے گھونگٹ بھی نہیں اٹھاتے۔ اور اکثر سنی سنائی کی وجہ غلطیاں کرتے ہں۔ اکثر جگ راتے کی وجہ تھکے ہارے بھی ہوتے ہیں۔ ولائتي لسی کے بڑے گلاس بھی، طبيعت ميں، بانکپن کا ذریعہ بن جاتے ہہں۔ پھر جب بھوکے کو گلاس مل جاتا ہے وہ"پی پی پانی آفر جاتا ہے"۔

اچھے، قابل اور کمٹڈ احباب بھی ہیں۔ لیکن یہ دو نمبری سب محنت اور معتبریت پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ اخبارات میں ان کے لگے کالم اور نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی 8 جولائی 2019 کی منظر عام پر آنے والی رپورٹ، OHCHR نے 12 جون 2019 کو حکومت ہندوستان اور حکومت پاکستان کو اس ایڈوائیس کے ساتھ بھیجی تھی کہ وہ 17 جون 2019 تک اپنے  
دیںComments۔

اس میں شک نہیں، کہ بھارت نے، رپرٹ  شائیع  نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ لیکن رپورٹ پر باقی لوگوں کی معتبر اور عقابی نظریں لگي تھیں ۔ اقوام متحدہ کو اس بات کا پورا احساس تھا۔

 اخبارات میں شائیع کرائی گي خبر بے بنیاد ثابت ہوئی۔
رپورٹ میں موجود  کسی بھی سہواور غلطي  کی درستگی، کے لۓ دونوں مما لک کو 12 جون سے 17 جون تک کی مہلت دی گئی تھی۔

رپورٹ کو سمجھنے کے علمی اور قانونی زاويے ہیں۔ یہ آسان اورصرف ہمارے مطلب کی رپورٹ ہر گز نہیں۔ نہ ہی اسے ایک ٹویٹ کے ذريعے سمجھایا جا سکتا ہے۔ 

 Comments

کشمیر پراقوام متحدہ کی 14 جون 2018 اور 8 جولائی 2019 کی دونوں Reports کا منظر عام پر آنا بہت بڑی کامیابی ہے۔ آگے کی ذمہداری ہم سب کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مارچ1956 کے سری نگر کے دوروزہ دورے کے بعد، اقوام متحدہ کی کشمیرمیں  یہ، دوسری اور تیسری بڑی دلچسپی ہے۔ آگے کے اقدامات بہت اہم اور ضروری ہیں۔

Dr. Syed Nazir Gilani
President JKCHR

No comments:

Post a Comment

سال نو اور فیسبک نئے سال میں  چلے تو آئے خوشی سے اب اس سال میں  کیا کیا بدلاؤ ھو گا وہی ہم اور وہی  تم ہی تو ھوں گے وہی...