ثالثی کا پروانہ
کسی جنگل میں گیدڑوں کا ایک ٹولہ رہتا تھا سارے گیدڑ
دن رات پیٹ بھرنے کے چکر میں پورے جنگل کی خاک چھانتے رہتے اور اپنے شکم کی آگ بجھاتے لیکن ان میں سے ایک گیدڑ ہمیشہ غائب ھو جاتا اور شام کو واپس آ کر بڑے اطمینان سے لیٹا رہتا، اور باقی گیدڑوں کو لور لور پھرنے کے طعنے دیتا رہتا۔۔ باقی گیدڑ اسکی اس بات پر پریشان تھے کہ آخر یہ غائب کہاں ھو جاتا ہے؟۔ شکار پر بھی ہمارے ساتھ نہیں جاتا لیکن پھر بھی ہٹا کٹااورخوش باش ہے اسے کسی بات کی پرواہ تک نہیں۔ آخر ایک دن اس راز سے متعلق اسکے دوست پوچھ ہی لیتے ہیں تو وہ انکو بتاتا ھے کہ نزدیکی گاؤں کے چودھری صاحب سے اسکے بڑے اچھے مراسم ہیں اس گاؤں میں جتنے بھی خربوزوں کے کھیت ہیں وہ ان سب میں سےخربوزے کھا سکتا ھے۔ دوست گیدڑ حیران ھو کر اس سے کہتے ہیں کہ کوئ تمہیں منع نہیں کرتا، گیدڑ انہیں بتاتا ھے چودھری صاحب کی طرف سے اسکے پاس ایک پروانہ ھے جسے دکھانے پر کوئ بھی اسے روک نہیں سکتا۔
باقی تمام گیدڑ اپنے اس ساتھی کی قدر ومنزلت پر فخر کرتے ہیں اور اسے ایک نہایت ہی دانا اور عقلمند گردان کر اسے اپنا لیڈر مانتے ہوئے اسکی او بھگت کرنا شروع ھو جاتے ہیں۔ ایک دن اپنے دوستوں کے اصرار پر وہ انھیں بھی اپنے ساتھ خربوزے کھلانے کے لیے لےجانے پر رضامند ھو جاتا ھے۔ سارے گیدڑ کھیت میں خربوزے کھانے میں محو ھوتے ہیں کہ ادھر سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنا شروع ھو جاتی ہی جو ان ہی کی طرف آ رہے ھوتے ہیں۔ موصوف گیدڑ صاحب آؤ دیکھتے ہیں نہ تاؤ اور سرپٹ بھاگنے لگتے ہیں، کتوں کو دیکھ کر باقی گیدڑ بھی اس گیدڑ کے پیچھے پیچھے بھاگنا شروع جاتے ہیں۔ان میں سے ایک گیدڑ اپنے لیڈر گیدڑ سے کہتا ھے کہ جناب کدھر ھے وہ پروانہ ، جلدی نکالو اور انکو دکھاؤ تو سہی وگرنہ یہ تو آج ہماری تکہ بوٹی کردیں گے۔۔
لیڈر گیدڑ آگے آگے دوڑتے ہوئے کہتا ہے کہ یار یہ جو پروانہ ھے نا۔۔۔ یہ دراصل انگریزی میں لکھا ھوا ھے۔۔ اور یہ ٹھہرے ان پڑھ اور جاھل کتے۔۔ انہیں یہ پروانہ کہاں سمجھ میں آئے گا۔۔ فی الوقت بھاگنے میں ہی آفیت سمجھو۔۔
نوٹ
کشمیر پر ثالثی کا پروانہ تو ہمارے پاس موجود ہے مگر ھندوستانی سگوں کو یہ سمجھ نہیں آئے گا۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment