Wednesday, 6 November 2019

کرتار پور، بھنگڑے اور نیا نقشہ





کرتارپورھداری، بھنگڑے اور نئے نقشے

حکومت پاکستان کی طرف سے کرتار پور راھداری کو کھول کر دنیا کو پیغام دیا گیا ھے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ھے اور اسکا شدت پسندی سے کوئ لینا دینا نہیں ہے۔سکھ  بھائیوں کو انکے مذھبی مقام تک بغیر ویزہ کے رسائ دینا واقعی ایک قابل تعریف عمل ھے۔ خالصتان میں تان کا لفظ  پاکستان سے ادھارلیا گیا ھے، اس لحاظ پاکستانی قوم  کی  سکھ بھائیوں سے  ہمدردی تو بنتی ھے۔ عمران خان صاحب کے اس اقدام کو  بھارتی پنجاب میں کافی پزیرائی مل رہی ھے اور انکے اس عمل کو سراہا جا رہا ھے۔ لیکن اس سارے  منظر میں کشمیر کہیں غائب سا ھو گیا ھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ھے کہ مولانا کے دھرنے نے کشمیر کو منظر عام سے ہٹا دیا ھے۔۔ 
پاکستان نے کشمیر کی آزادی کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا سوائے ایک کے ، اور وہ تھا یو این او کی قراردادوں پر عمل ۔ پاکستان کی طرف سے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے دعوے اسوقت دھرے کے دھرے رہ گئے جب بھارت نے باضابطہ طور پرلداخ کو جموں کشمیر سے الگ کر کے لداخ اور جموں کشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر کے باقاعدہ اپنا حصہ بنا لیا اور خطے کی سرکاری زبان کو بھی اردو کی بجائے ھندی اور انگریزی میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ بات صرف یہاں ہی ختم نہیں ھوئ بلکہ بھارت نے پاکستان سے نئ نئ دوستی کا حق ادا کرتے ھوئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنے نئے نقشے میں  اپنی ان دو نئ یونین  ٹیریٹریز میں شامل کر لیا ھے۔  جس پرحکومت پاکستان شدید رد عمل دیتے ھوئے یو این او کے صدر دروازے کو پیٹ پیٹ کر اسے توڑنے ہی والی تھی کہ کسی خدا کے نیک بندے نے انہیں   بتایا کہ اس بلڈنگ کے لوگ کب کے جا چکے ہیں۔
اس سارے تناظر میں آزاد کشمیر کے حالات کو اگر دیکھا جائے تو  آزاد کشمیر کا یہ حال ہے کہ یہاں دو طبقے پائے جاتے ہیں۔  ایک طبقہ ایسا ھے جو حکومت پاکستان کی ھر بات کو بنا چون و چراں صدق  دل سے قبول کر لینے کوایمان کا حصہ سمجھتا ہے ۔ اور دوسرا طبقہ ایسا  ہے جو اس سارے عمل پر غم و غصہ کا اظہار کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا ۔
بھارت ایک انتہائ معصوم اور  سادہ ملک ثابت ھوا ہے، اسنے کمال سادگی سے کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی اینٹ کا استعمال نہیں کیا  جس سے پاکستان کو کوئ ایسا موقع ملتا کہ وہ بھارت پر پتھر برسا برسا کر اسے نیست ونابود کر دیتا۔ اگر خدا نخواستہ یہ اینٹ اور پتھر کی جنگ شروع ھو جاتی تو شاید پاک و ہند میں ماحولیاتی آلودگی بڑھنے سے تمام گلیشئر پگھل جاتے اور غریب لوگوں کے لیے اے سی نہ ھونے کی وجہ سے گرمی برداشت کرنا مشکل ھو جاتی، غریب مہنگائ سے توشاید بچ جائیں لیکن گرمی سے انکے ہلاک ھو جانے کا خطرہ زیادہ  ھوتا ہے۔
ایک بات کی داد تو دینا پڑے گی کہ دونوں ممالک گلوبل وارمنگ کے خطرے کے پیش نظر آپس میں  امن کی بھاشا بول رہے ہیں۔ لیکن کیونکہ  یہ  امن کی بھاشا کنٹرول۔لائن والوں کو سمجھ نہیں آتی اس لیے وہاں ایسی بھاشا بولنے کا کوئ رواج  نہیں ہے۔   جسطرح پاکستان نے کرتار پور راھداری کھول کر انڈیا اور سکھوں کو اپنا سمجھ کر گلے لگایا اور انھیں بلا روک ٹوک پاکستان میں آنے کی اجازت دے دی  ویسے ہی ھندوستان نے بھی آزاد کشمیر  اور گلگت بلتستان کو نہ صرف زبانی کلامی اپنا مانا ھے بلکہ اپنے پوتر اکھنڈ بھارت کے نقشے میں بھی شامل کر کے زینت بخشی ھے۔ اسکے نئے نقشے کی رو سے اگر آزاد کشمیر کے لوگ اپنے دوسرے حصے بھارتی کشمیر میں جانا چاہیں تو انہیں جانے کا حق حاصل ھو گا؟، بھارت نے اتنا سوچ بچار  کر کے جس محبت سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنے نقشے میں شامل کیا ھے اسکا اتنا  فایدہ تو ھونا چاہئے کہ 71 سالوں سے بچھڑے عزیز رشتہ دار آپس میں مل بیٹھ سکیں۔  ۔ ھندوستانی فوج کی طرف سے آزاد کشمیر کی کنٹرول۔لائن پر کشمیریوں کو نئے نقشے کے تحت دونوں اطراف میں آنے جانے کی ممانعت تو نہیں ھونی چاہئے، کیونکہ بھارتی سرکار نے بغیر شرائط کے  ہمیں  اپنا ماننے میں کھلے دل سے پہل کی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم مودی کو یہ خیال اسوقت آیا جب انھوں نے منٹو کا افسانہ ٹیٹوال کا کتا پڑھا، اس افسانہ کے پڑھنے کے بعد مودی کو کتے کی حالت پر بہت ترس آیا۔ اور انھوں نے ٹیٹوال اور کتے دونوں کو اپنا بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
کرتارپور سے ھندوستانی اگر انٹرنیشنل بارڈر بغیر ویزہ  کےعبور کر کے پاکستان آ سکتے ہیں تو کشمیریوں کو اپنی ہی ریاست میں آر پار جانے کے لیے کوئ مشکل تو درپیش نہیں آنی چاہئے، ۔ کنٹرول لائن پر تعینات بھارتی فوج کو  اپنے نئے شہریوں کا گرم جوشی سے استقبال کرنا چاہئے ۔ اور خیر سگالی کے طور پر مٹھائ کے ٹوکرے حکومت پاکستان اور واھگہ بارڈر بھیجنے چاہئیں۔
 اتنا سب کچھ ھو جانے کے بعد  اب پاکستان کی فوج کا کنٹرول لائن پر " تو کون، میں خواہ مخواہ" والا کھیل ختم
 ھونا توبنتا ہی ہے

(نوٹ)
ضروری نہیں کہ قارئین میری تحریر سے اتفاق ہی کریں۔ اختلاف کی صورت میں  موجودہ صورتحال پر ایک عدد مضمون لکھ کر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ 

No comments:

Post a Comment

سال نو اور فیسبک نئے سال میں  چلے تو آئے خوشی سے اب اس سال میں  کیا کیا بدلاؤ ھو گا وہی ہم اور وہی  تم ہی تو ھوں گے وہی...